ریکٹرز کانفرنس،HEC آرڈیننس 2002 میں ترامیم مسترد

پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان(اے پی ایس یو پی)کے تحت مقامی ہوٹل میں ہونے والی تیسری ریکٹرز کانفرنس کے شرکاء نے کانفرنس کے پہلے روز، ہائر ایجوکیشن کمیشن آرڈیننس 2002 میں ترامیم کو مسترد کردیا ہے کانفرنس میں بل کے مجوزہ مسودے پر غور کیا اور ان ترامیم کو ہائر ایجوکیشن اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے فروغ کے لئے نقصان دہ قرار دیا، اس موقع پر کہا گیا ایچ ای سی آرڈیننس 2002 بنانے والوں نے ادارے کو ایک متحرک تنظیم کے طور پر تصور کیا جو ملک کی معیشت کے علم کی بنیاد قائم کرنے کے لئے کام کرسکتا ہے۔ اس کے قیام کے ابتدائی سالوں اور دو دہائیوں میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بہت زیادہ ترقی دیکھنے میں آئی جہاں وسیع تر مشاورت ہوئی۔ اور شراکتی نقطہ نظر نے کلیدی کردار ادا کیا۔ موجودہ ترامیم ناصرف ادارے کا خودمختار کردار محدود کرتی ہیں بلکہ فیڈریشن کے بنیادی اصولوں کی بھی نفی کرتی ہیں۔ ترامیم میں بہت سی خامیاں ہیں جو قوم کی تعمیر کے لئے نقصان دہ ہیں لہٰذا یہ فورم (ریکٹرز کانفرنس) مطالبہ کرتا ہے کہ ایچ ای سی کو اس کی اصل روح اور مقاصد کو برقرار رکھا جائے اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر کوئی قانون منظور نہ کیا جائے جس میں صوبائی حکومتیں، پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے HEIS، HEC اور شامل ہیں۔ مزید یہ کہ یہ فورم مطالبہ کرتا ہے کہ موجودہ بل کو ملک کے بہترین مفاد میں ایچ سی سی کے آرڈیننس میں ترمیم عمل کے لئے روکا جائے۔ قبل ازیں ریکٹر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے تعلیم سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ میں اپنی زبان اردو میں بات کروں گا کہ اس اجتماع میں90 فیصد لوگ گھروں میں اردو بولتے اور سمجھتے ہیں، تعلیم اور زبان کا گہرا رشتہ ہے۔ تعلیم اپنی زبان سے ہٹ کر کسی اور زبان میں دی جائے تو وہ زیادہ مفید نہیں رہتی۔ ہمیں اردو کو ہمیشہ ترجیح دینی چاہئے، انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی سے اختیارات چھین لئے تو سب بیکار ہوجائے گا، ایچ ای سی کو بے اختیار نہ کریں لیکن ہماری بیوروکریسی ہر چیز پر قبضہ کرنا چاہتی ہے اور یہی ایچ ای کے ساتھ ہورہا ہے۔ پرائویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان(اے پی ایس یو پی) کے چیئرمین چوہدری عبدالرحمن نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایکٹ میں ترمیم اسے تباہ کردے گی اور چیئرمین سیکرٹری کے پیچھے کاموں کے لئے بھاگتا رہے گا۔ ڈاکٹر اقبال چوہدری نے کہا کہ ملک کو سائنس و ٹیکنالوجی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جرمنی کے سفیر الفریڈ گراناس نے کہا کہ جرمنی میں 95 فیصد جامعات سرکاری ہیں جو مفت تعلیم فراہم کرتی ہیں۔ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد منیر نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کے ایکٹ میں ترمیم کسی بھی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار نے کہا کہ پنجاب ایچ ای سی کو طاقت دو ورنہ بند کردو، اس طرح ادارے نہیں چلتے۔ جامعات کی جانب سے الحاق دینے پر تحفظات ہیں۔ ہم پرائیویٹ اور پبلک جامعات کے چکر نہ پڑیں مل کر کام کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *