خصوصی افراد کے حقوق کا تحفظ ، انہیں معاشرے کا فعال رکن بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے، بیگم ثمینہ عارف علوی

خاتون اول بیگم ثمینہ عارف علوی نےمعذور افراد کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباًایک ارب افراد کسی نہ کسی قسم کی ذہنی یا جسمانی معذوری کا شکار ہیں، خصوصی افراد معذور نہیں ہیں بلکہ ہم سے ذرا مختلف صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔

ہفتہ کو ایوان صدر میڈیا ونگ کی جانب سے جاری اپنے بیان میں خاتون اول بیگم ثمینہ عارف علوی نے کہا کہ خصوصی افراد عام انسانوں کی طرح بہت سی صلاحتیوں کے مالک ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کا خصوصی احساس کریں تاکہ کوئی بھی شخص معذوری کی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائے۔

خاتون اول نے کہا کہ خصوصی افراد کے حقوق کا تحفظ اور انہیں معاشرے کا فعال رکن بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ انہوں نے کاروباری برادری سے گزارش کی کہ وہ خصوصی افراد کو ان کی مہارتوں اور ان کے کوٹے کے اعتبار سے نوکریاں دے۔ خاتون اول نے کہا کہ کاروباری برادری کام کی جگہ پر خصوصی افراد کیلئے محفوظ اور دوستانہ ماحول پیدا کرنے کیلئے اقدامات کرے۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی افراد کے حقوق اور ان کے بارے میں پائے جانے والے منفی رویوں کو ختم کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کرے۔

خاتون اول نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ خصوصی افراد کو معاشرے کے مرکزی دھارے سے الگ رکھا جاتا ہے، خصوصی افراد کو اپنی روزمرہ زندگی میں بہت سی مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خصوصی افراد کو نقل و حرکت میں مشکلات پیش آتی ہیں، عمارتوں میں محفوظ ڈھلوانی راستے نہ ہونے کی وجہ سے ان کی رسائی محدود ہو جاتی ہے۔ بیگم ثمینہ عارف علوی نے کہا کہ خصوصی افراد کو معاشرے میں تفریق اور منفی رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سماجی، مادی اور بنیادی ڈھانچے میں موجود مختلف رکاوٹوں کی وجہ سے خصوصی افراد تعلیم اور صحت کی معیاری سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔

خاتون اول نے اس امر پر زور دیا کہ پوری قوم خصوصی افراد کی سہولت کیلئے اپنے اردگرد آسانیاں پیدا کرے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کو اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں میں ضرور شامل کریں، ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے اقدامات کریں۔بیگم ثمینہ عارف علوی نے امید ظاہر کیکہ ہماری مشترکہ کوششوں سے ہم معذوری کے ساتھ جڑے منفی تصورات کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *