پاکستان بیت المال سویٹ ہومز میں رہائش پذیر یتیم بچوں کے لئے گریجویشن کی سطح تک تعلیم کا دائرہ وسیع کرے گا، عامر فدا پراچہ

پاکستان بیت المال کے مینیجنگ ڈائریکٹرعامر فدا پراچہ نے کہا ہے کہ ملک بھر کے سویٹ ہومز میں رہائش پذیر یتیم بچوں کو گریجویشن کی سطح تک تعلیم حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اے پی پی کے ساتھ اپنے ایک خصوسی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اس سے قبل سویٹ ہومزکے بچوں کو میٹرک کی سطح تک تعلیمی ضروریات دی جا رہی تھیں لیکن اب انہیں گریجویشن کی سطح تک تعلیم حاصل کرنے میں مدد کے لیے پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے۔

اس وقت ملک بھر میں کام کرنے والے51 سویٹ ہومز جدید فلاحی نقطہ نظر کو اپناتے ہوئے 4355 یتیم بچوںکو رہائش، تعلیم اورکفالت کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں۔

عامر فدا پراچہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پاکستان بیت المال نے اپنی نگرانی میں ہر سویٹ ہوم کے ساتھ ایک ٹیکنیکل سکول قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ وہ بچے جو تعلیم حاصل نہیں کر سکتے یا رسمی تعلیم حاصل کرنے کا رجحان نہیں رکھتے انہیں پیشہ ورانہ اور فنی مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے اور اپنے اور اپنے خاندان کی کفالت کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی چائلڈ لیبر کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ملک بھر

میں159 بچوں کی مشقت سے بحالی کے مراکز قائم کئے گئے ہیں جو بچوں کو ان کے کام کی جگہوں سے نکالنے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ انہیں غیر رسمی تعلیم کے ذریعے مرکزی دھارے میں شامل کیا جا سکے۔ ان بحالی مراکز سے آنے والے بچوں کوپاکستان بیت المال 4100 روپے کی گرانٹ کے ذریعے جماعت ہشتم تک تعلیم کے لیے سرکاری اسکولوں میں داخلہ کرایا جاتا ہے۔

یتٰمٰی اور بیوگان سپورٹ پروگرام کے بارے میں مینجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ یہ پروگرام جو کہ ایک مشروط کیش ٹرانسفر انٹروینشن ہے، بنیادی طور پر یتیموں، خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینے کے ساتھ بیوائوں کو مالی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔اس پروگرام کے تحت 75 فیصد اسکول حاضری کی تعمیل پر بالترتیب ماہانہ 8 ہزار روپے فراہم کئے جاتے ہیں اور ایک سے زیادہ بچے والے خاندانوں کو 16,000 ہزار روپے ماہانہ ادا کئے جاتے ہیں اس پروگرام کے تحت کل 692 خاندانوں کو دسمبر 2020 سے اب تک 23.598 ملین روپے کے معاوضے دیئے گئے ہیں۔

عامر فدا پراچہ نے بتایا کہ اس پروگرام کا کراچی میں پہلا مرحلہ ایک پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر اگلے ہفتے شروع کیا جائے گا جبکہ اسے مزید خاندانوں تک پہنچانے کے لیے بعد میں لاہور میں شروع کیا جائے گا۔

خواتین کو بااختیار بنانے کے مراکز کی توسیع کے بارے میں ایم ڈی بیت المال نے کہا کہ ملک بھر میں تقریبا 163 ویمن امپاورمنٹ سنٹر کام کر رہے ہیں تاکہ بیوائوں، یتیموں اور غریب لڑکیوں کو جدید کاروبار بشمول ڈریس ڈیزائننگ،فیبرک پینٹنگ ، ایمبرائیڈری، بنیادی اور ایڈوانس کمپیوٹر کورسز میں مفت پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا سکے۔ بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے حاضری کی بنیاد پریومیہ 50 روپے کا وظیفہ دیا جاتا ہے ۔ تاہم مرکز کے دائرہ کار کو تحصیل کی سطح تک پھیلایا جائے گا ، جو پہلے ضلعی سطح پر قائم کئے گئے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال نے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کی مدد سے سرٹیفیکیشن کا عمل بھی شروع کردیا ہے تاکہ کورسز مکمل کرنے اور ٹیسٹ کے لیے کوالیفائی کرنے والی خواتین کو ملازمت کے لیے مناسب سرٹیفکیٹ مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ ذمہ داریاں سنبھالنے کے فورا بعد مقامی اور بین الاقوامی ڈونرز کو راغب کرنے کے لیے بیت المال میں ایک خصوصی ونگ بنایا گیاہے۔ اس طرح کی کوششوں کے ذریعے، پاکستان بیت المال اسلام آباد کے مضافاتی علاقے میں ایک ویمن امپاورمنٹ سنٹر قائم کیا جا رہا ہے جس کے لیے ایک نجی عطیہ دہندہ ادارے نے زمین جبکہ دوسرے ادارے نے کمپیوٹر فراہم کیے ہیں۔ اب پاکستان بیت المال اس اقدام پر عمل درآمد کے لیے مرکز میں اپنے ملازمین کو تعینات کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک ترک این جی او کے تعاون سے گلگت بلتستان کے ویمن امپاورمنٹ سنٹر میں سٹون کٹنگ اور پالشنگ کا ایک خصوصی کورس شامل کیا جا رہا ہے جس سے مقامی آمدنی کا ذریعہ پیدا ہو گا۔ شیلٹر ہومز (پناہ گاہوں) اور موبائل لنگر خانے کے منصوبوں کو عوام دوست منصوبے قرار دیتے ہوئے عامر فدا پراچہ نے کہا کہ پاکستان بیت المال کو ان منصوبوں کے لیے مطلوبہ بجٹ فراہم نہیں کیا گیا۔ اگرچہ پارٹنر این جی اوز صرف کھانا فراہم کرنے کے لیے اپنا حصہ ڈال رہی ہیں لیکن پاکستان بیت المال کو ملازمین کی تنخواہوں، عمارتوں کا کرایہ، یوٹیلیٹی بلز کا خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیت المال موجودہ منصوبوں کو توسیع یا کوئی نیا اقدام شروع نہیں کر سکا ۔ پاکستان بیت المال نے ان منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے 12.5 ارب روپے کا بجٹ مانگا ہے، تاہم صرف چھ ارب روپے ملے ہیں جو صرف جاری منصوبوں کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال نے اضافی بجٹ کی درخواست کی ہے لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا اس لیے محکمے کو اخراجات کا انتظام کرنے کے لیے لنگر خانوں کے مینو کو تبدیل کرنا پڑا ہے۔

انفرادی مالی اعانت اقدام کے بارے میں انہوںنے کہا کہ انفرادی مالی اعانت غریبوں، بیوائوں، بے سہارا خواتین، یتیموں اور معذور افراد کی عمومی امداد، تعلیم، طبی علاج اور بحالی کے ذریعے مدد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت جولائی2019 سے 01 دسمبر 2022 تک مستحق افراد میں 9 ارب26کروڑ91لاکھ 25ہزار روپے سے زائد رقم تقسیم کیے جا چکی ہے ۔

عامر فدا پراچہ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان بیت المال اپنے منصوبوں کے تمام ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنے کی طرف گامزن ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس میں کوئی جانبداری نہ ہو اور استفادہ کرنے والوں کو پہلے آئیں پہلے پائیں کی بنیاد پر مدد فراہم کی جا س

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *