مونٹیسوری: کیا یہ دنیا کے سب سے مؤثر سکول ہیں؟

امیر اور مشہور لوگوں کی زندگیوں پر غور کرتے وقت اُن کی کامیابیوں کے راز تلاش کرنا ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔ یہاں آپ سے ایک چھوٹا سا سوال یہ ہے آخر مشہور شیف جولیا چائلڈ، ناول نگار گیبریل گارسیا مارکیز، گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ، اور گوگل کے بانیوں، لیری پیج اور سرگئی برن، ان سب میں قدرِ مشترک کیا ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تمام مشہور لوگ جب چھوٹے تھے تو سبھی مونٹیسوری سکول میں پڑھتے تھے۔

امریکہ میں آرٹ اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں مونٹیسوری سکولوں کے کردار کو ایک عرصے سے تسلیم کیا جاتا رہا ہے لیکن مونٹیسوری سکولوں کے طریقہ تعلیم کی شہرت اس سے پرانی ہے۔

مثلاً مہاتما گاندھی بھی اس قسم کے طریقہ تعلیم کے بڑے مداح تھے اور وہ کہا کرتے تھے کہ اس طریقہ تعلیم کے ساتھ پڑھائے جانے والے بچوں کو سیکھنا بوجھ نہیں لگتا کیونکہ کھیل کھیل میں وہ سب کچھ سیکھ لیتے ہیں۔

نوبیل انعام یافتہ شاعر رابندر ناتھ ٹیگور نے مونٹیسوری سکولوں کا جال بچھایا جس کا مقصد بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا تھا لیکن کیا یہ طریقہ تعلیم واقعی کام کرتا ہے؟

بچوں میں بہت چوٹی عمر میں ہی خود مختاری پیدا کرنے کی غرض سے یہ طریقہ تعلیم اطالوی ڈاکٹر اور ماہر تعلیم ماریا مونٹیسوری نے ترتیب دیا تھا اور اس بات کو ایک صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔

ماریا مونٹیسوری کی زندگی میں ہمیں حقوق نسواں کی علمبردای یا فیمینسٹ نظریات کی اولین جھلک دکھائی دیتی ہے اور ان کی کہانی نہایت متاثر کن ہے۔ انھوں نے اپنے خوابوں کے حصول کے لیے اٹلی کی اس زمانے کی مطلق العنان حکومت سے ٹکر لی تھی۔

کچھ اندازوں کے مطابق اب دنیا بھر میں کم از کم 60 ہزار سکولوں میں مونٹیسوری طریقہ تعلیم رائج ہے تاہم حیرت انگیز طور پر اب بھی مونٹیسوری تعلیم کے فوائد بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔

اس کی جزوی وجہ یہ ہے کہ کمرۂ جماعت میں سائنسی تحقیق کرنا آسان نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مونٹیسوری طریقۂ تعلیم پر موجودہ تحقیق کو شکوک و شبہات اور شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم حال ہی میں محققین ان مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور حالیہ تحقیق کے نتائج ان تمام اساتذہ، والدین، طالب علموں اور درحقیقت ہر اس شخص کے لیے دلچسپی کا سامان ہے، جو سمجھتے ہیں کہ بچوں کا دماغ واقعی لچکدار ہوتا ہے اور اسے خاص انداز میں ڈھالا جا سکتا ہے۔

ڈبل روٹی کے ٹکڑوں کے ساتھ کھیلنا
ماریا مونٹیسوری سنہ 1870 میں ترقی پسند والدین کے ہاں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والدین اکثر ملک کے معروف مفکرین اور سکالرز کے ساتھ ملتے رہتے تھے۔

اس روشن خیال خاندانی ماحول نے ماریا مونٹیسوری کو اس وقت کی دیگر نوجوان لڑکیوں کے مقابلے میں بہت سے فوائد فراہم کیے۔

اٹلی کے شہر روم میں اوپیرا نازیونالے مونٹیسوری کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی رکن ایلیڈ تاویانی کہتی ہیں کہ مونٹیسوری کے زندگی کے ’کچھ اہم فیصلوں کے لیے ان کی والدہ کا تعاون بہت ضروری تھا، جیسے ابتدائی تعلیم کے بعد کسی ٹیکنیکل سکول میں داخلہ۔ اسی طرح میڈیسن کی تعلیم حاصل کرنے کے فیصلہ کرتے وقت بھی ان کے والدین کی حمایت بھی ضروری ثابت ہوئی کیونکہ اس زمانے میں طب کے شعبے پر مردوں کی اجارہ داری تھی۔‘

’ماریا مونٹیسوری کا خاندان ہمیشہ سماجی مسائل کے بارے میں انتہائی حساس رہا، جیسے خواتین کی آزادی کی جدوجہد۔ یہ ایک جنگ تھی جو ماریا مونٹیسوری کو اپنی بلوغت تک جاری رکھنا تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس دور کی دیگر خواتین کے لیے ایک اہم حوالہ ثابت ہوئیں۔‘

گریجوئیشن کے فوراً بعد 1896 میں مونٹیسوری نے روم یونیورسٹی میں ایک نفسیاتی کلینک میں رضاکارانہ معاون کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا جہاں وہ ان بچوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں جنھیں سیکھنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

اس کلینک کے کمروں میں فرنیچرنہ ہونے برابر تھا۔ سپین کی ناورا یونیورسٹی میں نفسیات اور تعلیم کی محقق اور’ونڈر ایپروچ‘ نامی کتاب کی مصنفہ کیتھرین ایل ایکوئر کہتی ہیں کہ ایک دن انھوں نے دیکھا کہ بچے فرش پر گرے ہوئے روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے بڑے جوش و خروش سے کھیل رہے ہیں۔

یہ دیکھ کر ان کے ذہن میں خیال آیا کہ ممکن ہے بچوں میں کچھ فکری معذوریوں کی اصل وجہ غربت ہو۔ ان تجربات سے مونٹیسوری نے نتیجہ اخذ کیا کہ سیکھنے کے درست مواد کے ذریعے اس قسم کے بچوں اور دیگر نوجوان ذہنوں کی پرورش کی جا سکتی ہے۔

یہ مشاہدہ مونٹیسوری کو تعلیم کے ایک نئے طریقے کی جانب لے گیا جس کا مرکزی نکتہ بچپن کے حساس دور میں بچوں کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ اس کا بنیادی اصول یہ تھا کہ سیکھنے کا مواد بچوں کے سائز کا ہونا چاہیے اور تمام حواس کو متاثر کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جانا چاہیے۔

اس کے علاوہ، ہر بچے کو آزادانہ طور پر نقل و حرکت اور عمل کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے اور انھیں اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور مسئلے کو حل کرنے کی مہارتوں کو استعمال کرنا چاہیے۔ اس طریقہ تعلیم میں اساتذہ کا کام محض رہنمائی کرنا تھا جو بچوں پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالتے اور نہ ہی انھیں کنٹرول کرتے۔

مونٹیسوری نے اپنا پہلا ’کاسا دی بمبینی ‘ یا ’چلڈرن ہاؤس‘ سنہ 1907 میں کھولا تھا، جلد ہی اس کی طرز پر کئی اور مرکز بھی قائم ہو گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مونٹیسوری نے گاندھی سمیت دنیا بھر کے کئی بڑے رہنماؤں اور ماہرین تعلیم سے تعلقات قائم کیے۔

شاید آپ کو یہ سُن کر حیرت ہو کہ جباٹلی میں فسطائی حکمران پہلی بار 1922 میں اقتدار میں آئے تو انھوں نے بھی شروع شروع میں مونٹیسوری کے طریقہ تعلیم و تدریس کو اپنایا، لیکن جلد ہی وہ بچوں کی اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ہو گئے۔

ایلیڈ تاویانی کے مطابق مونٹیسوری ہمیشہ انسانی احترام اور بچوں اور عورتوں کے حقوق ’کی زبردست حامی رہیں‘ لیکن نئی فاشسٹ حکومت کی کوشش یہ تھی کہ وہ ان کے فلسفے پر عمل نہ کرے لیکن مونٹیسوری کے کام اور ان کی شہرت کا فائدہ اٹھا لے۔

چنانچہ جب فاشسٹ حکومت نے سکولوں کے تعلیمی مواد پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تو 1934 میں مونٹیسوری اور ان کے بیٹے نے اٹلی چھوڑ دیا اور 1952 میں 81 برس کی عمر میں وفات سے پہلے تک وہ اپنے طریقہ تعلیم کے بارے لکھتی رہیں اور اس حوالے سے مواد بھی ترتیب دیتی رہیں۔

کنٹرول بچوں کے اپنے ہاتھ میں
آج دنیا بھر میں مونٹیسوری سکولوں کی بہت سی مختلف اقسام موجود ہیں، لیکن اوپرا مونٹیسوری نامی تنظیم ان میں سے بہت سے اداروں کو تسلیم نہیں کرتی، تاہم ان سکولوں میں بھی اس طریقہ تعلیم کے کچھ بنیادی اصول برقرار ہیں۔ ایک اصول یہ ہے کہ اساتذہ کو ایک نرم گائیڈ یا رہنما کے طور پر پیش کیا جائے جن کا کام بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہو تاکہ بچے بالغ افراد کی کم سے کم مداخلت میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔

سسلی میں قائم ایک مونٹیسوری ’ایکوسکولا‘ کی ہیڈ ٹیچر مِریم فیرو کہتی ہیں کہ ’ہمارے ہاں بچے اپنی سرگرمیوں کا انتظام خود ہی چلاتےہیں۔‘

ایکوسکولا میں کچھ مضامین دوسری نرسریوں یا پری سکولز اور دیگر پرائمری سکولوں میں پڑھائے جانے والے مضامین سے ملتے جلتے ہیں، جیسے ریاضی اور موسیقی۔ لیکن ایکوسکولا میں ’عملی زندگی‘ کے نام سے ایک حصہ بھی شامل ہے جومونٹیسوری کے بنیادوں اصولوں کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ اس میں بچوں کو خود پر انحصار سکھایا جاتا ہے۔

اس حصے میں بچوں کو حقیقی زندگی کے عملی سکھائے جاتے ہیں، جیسے اپنے ہم جماعت بچوں کو مشروبات پیش کرنا۔ چھوٹے بچوں کو کسی قسم کے حادثے سے محفوظ رکھنے کے لیے پانی گرم کرنے کا کام اساتذہ کرتے ہیں، تاہم کھانے کی میز وغیرہ کو صاف کرنا اور کھانے پینے کی چیزیں ایک دوسرے کو پیش کرنا بچوں کا کام ہے۔

مِس فیرو کا کہنا ہے کہ ناشتے اور دوپہر کے کھانے کے دوران بھی بچے باری باری کھانا لگاتے ہیں اور یوں دوسرے بچوں کی خدمت کرتے ہیں۔

یہ طریقہ تعلیم نہ صرف بچوں میں آزادی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے بلکہ ان میں تعاون کا جذبہ بھی پیدا کرتا ہے۔ یہاں مختلف عمر کے بچوں کو ایک ہی کمرۂ جماعت میں پڑھایا جاتا ہے، تاکہ بڑے بچے چھوٹے بچوں کی مدد کر سکیں۔

بچوں کے درمیان مقابلہ بازی سے بچنے کے لیے اس مونٹیسوری میں کوئی ٹیسٹ یا گریڈ نہیں ہیں۔ ہر کلاس کا دورانیہ تین گھنٹے ہوتا ہے تاکہ بچے اپنے کام پر پوری توجہ دے سکیں اور ان کا دھیان اِدھر اُدھر نہ بھٹکے۔

یہ تصور جتنا خوش گوار اور عقلی نظر آتا ہے، کیا اس سے کوئی ٹھوس فوائد حاصل ہوتے ہیں، جو عام کلاس روم میں دیکھے جاتے سکتے ہیں؟

بظاہر یہ ایک سادہ سوال دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کا جواب دینا بہت مشکل ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ مونٹیسوری تعلیم کے مخصوص پہلوؤں کے فوائد ہو سکتے ہیں لیکن تحقیق کے نتائج اہم احتیاطی تدابیر کے ساتھ سمجھ آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ معلوم کرنے کے لی کہ کمرہ جماعت میں کوئی چیز کام کرتی ہے یا نہیں، سائنسی تحقیق سے یہ ثابت کرنا مشکل کام ہے۔

بالغ افراد یا اساتذہ کی جانب سے مداخلت کے اثرات کی پیمائش کے لیے آپ سائنسی کی دنیا میں جو تجربہ کرتے ہیں اسے ’رینڈمائزڈ کنٹرولڈ ٹرائل‘ کہتے ہیں۔ اس میں شامل بچوں کا انتخاب سوچ سمجھ کر نہیں کیا جاتا اور شرکا کو بے ترتیب طور پر دو گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، ایک ’تجرباتی‘ گروہ اور دوسرا کنٹرول‘ گروپ۔

اگر ان بچوں نے جن کے کام میں بالغوں کا کوئی کردار تھا، انھوں نے دوسرے گروپ کی نسبت بہتر کام نہیں کیا تو آپ شاید یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ بچے بڑوں کی مداخلت کے بغیر بہتر کام کرتے ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے طبی تحقیق میں ایک گروپ کو حقیقی دوا (گولی) دی جاتی ہے اور کنٹرول گروپ کو ایک ‘پلیسیبو’ گولی دی جاتی ہے جو بالکل اصلی گولی کی طرح نظر آتی ہے ، لیکن اس میں دوا نہیں شامل کی جاتی ہے۔

لیکن بدقسمتی سے، کمرہ جماعت میں اساتدہ کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے اس سائنسی طریقے کا پوری طرح اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔

آپ مونٹیسوری سکولوں کے طالب علموں کا موازنہ کسی دوسرے تعلیمی نظام کے طالب علموں سے کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ لیکن بہت سے مونٹیسوری سکولوں میں بچوں سے خاصی فیس لی جاتی ہے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ تمام والدین بھاری فیس ادا نہیں کر سکتے۔ اسی لیے مونٹیسوری سکول جانے والے بچوں کا تعلق عموماً کھاتے پیتے خاندانوں سے ہوتا ہے اور یہ چیز بھی بچوں کی نشو ونما اور اچھی کارکردگی کا سبب ہو سکتی ہے۔

یہ صرف والدین کا دولت مند ہونا ہی نہیں بلکہ سپین کی یونیورسٹی آف نوارا کے انسٹیٹیوٹ فار کلچر اینڈ سوسائٹی سے منسلک جیویئر برنیسر کا کہنا ہے کہ ’اپنے بچوں کو مونٹیسوری سکول بھیجنے والے والدین خود زیادہ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور گھر کا تعلیمی انداز بھی ایسے بچوں کی مدد کر سکتا جس کا سہرا آپ مونٹیسوری کے سر نہیں باندھ سکتے۔‘

اس میں کوئی شک نہیں تحقیق میں یہ دیکھا گیا ہے کہ مونٹیسوری سکول بچوں کی بہتر نشوونما میں اچھا کردار ادا کرتے ہیں لیکن ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اس کی وجہ مونٹیسوری طریقہ کار ہے یا یہ صرف ان بچوں کے خصوص پس منظر کی وجہ سے ہوتا ہے۔

ورجینیا یونیورسٹی میں نفسیات کی پروفیسر اینجلین لیلارڈ نے امریکہ کے شہر ملواکی کے ایک خاص مونٹیسوری سکول کو دیکھ کر ان مسائل پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔ یہاں سکول کے لیے درخواست دینے والے بچوں کو لاٹری سسٹم کے ذریعے منتخب کیا گیا تھا۔ پانچ سال کی عمر میں ان بچوں کی پیش رفت کا تجزیہ کرتے ہوئے، لیلارڈ نے دیکھا کہ مونٹیسوری سکول جانے والے بچوں میں دوسرے سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والوں کے مقابلے میں خواندگی، اعداد و شمار، ایگزیکٹو فنکشن اور سوشل سکِل یا سماجی مہارت زیادہ تھی۔

یہ نتائج خاصے مثبت ہیں، لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس تجربے میں شامل بچوں کی تعداد نسبتاً کم تھی۔ اسی لیے یونیورسٹی کالج آف لندن انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کی کلوئی مارشل کہتی ہیں کہ لیلارڈ کی تحقیق کے نتائج خاصے مدلل ہیں لیکن ’یہ نتائج صرف ایک ثبوت ہیں اور ہم سائنس کی دنیا میں ایسے تجربات پر بھروسہ کرتے ہیں جنھیں دہرایا جا سکے اور ہر بار ایک ہی نتیجہ سامنے آئے۔‘

’غیر منظم وقت‘ کے فوائد
تاہم کلوئی مارشل کا خیال ہے کہ بچوں کی نفسیات کو مدنظر رکھا جائے تو ہمیں مونٹیسوری کے فوائد دکھائی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر حالیہ دور میں کچھ ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن کے مطابق اگر بچوں غیر منظم وقت فراہم کیا جائے، جس دوران بالغ افراد ان کی سرگرمیوں میں مداخلت نہ کریں، تو یہ چیز بچوں میں زیادہ آزادی اور خود ہدایت کا باعث بنتی ہے۔

اس بات کے بھی کچھ شواہد موجود ہیں کہ کلاس رومز میں بچے جو صرف مونٹیسوری کے مصدقہ تعلمی مواد کا استعمال کرتے ہیں، وہ دیگر بچوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مونٹیسوری کے منفرد ڈیزائن کردہ مواد سے بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت بہتر ہو جاتی ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں سینٹر ہاسپٹلئر یونیورسٹی میں نیورو سائنٹسٹ اور خود مونٹیسوری کی سابق ٹیچر سولنگے ڈینرووڈ بھی اس طریقہ تعلیم کی مداح ہیں۔ ایک حالیہ مطالعے میں انھوں نے دیکھا کہ مونٹیسوری سکولوں میں پڑھنے والے بچوں میں تخلیقی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں بچوں کے تعلیی نتائج بہتر ہوتے ہیں۔

اگرچہ وہ طالب علموں کا مکمل طور پر سائنسی نمونہ حاصل کرنے سے قاصر تھیں، لیکن انھوں نے کوشش کی کہ ان کی تحقیق کچھ بیرونی عومل سے متاثر نہ ہو۔

سولنگے ڈینرواؤڈ کو شبہ ہے کہ مونٹیسوری سکولوں کے بچوں کو کم عمری سے ہی خود سے سیکھنے کی صلاحیت مل جاتی ہے اور وہ انھیں کسی مسئلے کا خود حل تلاش کرنے اور اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ مونٹیسوری سکول بچوں کو ’نئی چیزیں آزمانے اور غلطی کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔‘

کیا مونٹیسوری سکولوں کے سابق طالب علموں کی کامیابی ان فوائد کی عکاسی کر سکتی ہے؟

کلوئی مارشل کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ہمیں اپنا فیصلہ محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ہمارے پاس طویل مدتی فوائد کے بارے میں ابھی تک ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔ ان کے مقابلے میں ڈینرووڈ زیادہ مثبت ہیں اور ان کا خیال ہے کہ مونٹیسوری تعلیم لوگوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہے اور یوں انھیں زندگی میں آگے بڑھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘جب آپ سکول میں ہوتے ہیں تو آپ اپنے دماغ کے فن تعمیر کی تعمیر کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ بات سمجھ آتی ہے کہ جو لوگ کم عمری میں خود کو متحرک، لچکدار اور تعاون کرنا سکھا لیتے ہیں، انھیں بعد کی زندگی میں فائدہ ہونا چاہیے۔

مونٹیسوری برانڈ
اس طریقہ کار کے حقیقی فوائد جو بھی ہوں، مونٹیسوری کا مرکزی خیال یقیناً دلچسپ ہے۔ اور اس کے حامیوں نے روایتی تعلیم کے ظلم سے آزاد، ایک خود ساختہ بچپن کے اپنے پیغام کو مارکیٹ کرنے میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ماریہ مونٹیسوری نے اپنے طریقہ کار کی ترویج میں انتھک محنت کی اور ان کے جانشینوں نے اسے کامیابی سے دنیا بھر میں پھیلا دیا ہے۔

یونیورسٹی آف پالرمو سے منسلک پروفیسر گیانفرانکو مارون کہتے ہیں کہ ’یہ حادثاتی طور پر نہیں ہوا ہے بلکہ یہ ایک ’برانڈ‘ بن گیا ہے۔ ان کا اشارہ 1980 کی دہائی کے بعد سے اس برانڈز کے مارکیٹنگ کی جانب تھا۔ مسٹر مارون بتاتے ہیں کہ مونٹیسوری نام اب اعلیٰ معیار کی تعلیم اور یہاں تک کہ زندگی کے فلسفے سے جڑا ہوا ہے، جس نے بہت سے والدین کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ آج بہت سے سکول خود کو ماریہ مونٹیسوری سے منسوب کرتے ہیں لیکن ان کے طریقوں پر پوری طرح عمل نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مونٹیسوری کے لفظ کے جملہ حقوق محفوظ نہیں ہیں۔ اگرچہ مختلف ممالک میں سرکاری مونٹیسوری ادارے موجود ہیں جو اساتذہ کی تربیت اور سند فراہم کرتے ہیں ، لیکن ان سکولوں کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنے اشتہارات میں اس اصطلاح کا استعمال کریں۔

ایل ایکوئر کے بقول ’مونٹیسوری کی مستند تعلیم تلاش کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ زیادہ تر لوگ صرف ایک رجحان کی پیروی کر رہے ہیں اور ان کے ہاں یہ طریقہ تعلی لاگو کرنے میں مستقل مزاجی کی کمی نظر آتی ہے۔

تاہم، مارشل کا خیال ہے کہ متنوع نقطہ نظر بعض اوقات مونٹیسوری طریقہ کار کا درست جائزہ لینے میں رکاوٹ کا سبب بن سکتے نہیں۔لیکن وہ یہ بھی تسلیم کرتی ہیں کہ اس تحریک کو سماجی اور تکنیکی تبدیلیوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

یہ ماریا مونٹیسوری کی کامیابی کا ثبوت ہے کہ، اپنا پہلا سکول کھولنے کے 100 سال سے زیادہ عرصے بعد اساتذہ اب بھی ان کے نظریے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالیہ تحقیق کے نتائج سے لگتا ہے کہ مونٹیسوری طریقہ تعلیم کے بارے میں بحث ایک اور صدی تک جاری رہ سکتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *