حکومت کا دس لاکھ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی تربیت دینے کافیصلہ لیکن یہ عمل کب تک مکمل ہوگا؟ کسی کو یقین نہ آئے

وفاقی حکومت نے 2027ءتک 10لاکھ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی اور الائیڈ ٹیکنالوجیزکی تربیت دینے کا فیصلہ کر لیا۔ نیوز ویب سائٹ’پروپاکستانی‘ کے مطابق حکومت کی آئی اے پالیسی میں طے کیا گیا ہے کہ مذکورہ ہدف کو پورا کرنے کے لیے ایک مستحکم ماڈل تیار کیا جائے گا، جس میں 10ہزار نئے ٹرینرز کی ضرورت ہو گی جو آئی ٹی گریجوایٹس کو آرٹیفشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی) اور الائیڈ ٹیکنالوجیز کی تعلیم دیں گے۔

آئی اے پالیسی کی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ وزارت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی طرف سے 2022ءمیں ایک سروے کرایا گیا تھاجس میں معلوم ہوا تھا کہ اس وقت ملک میں کمپیوٹنگ اور آئی ٹی میں کام کرنے والے لوگوں میں سے بمشکل 10فیصد مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی اور الائیڈ ٹیکنالوجیز میں مہارت رکھتے ہیں۔ باقی تمام لوگ آئی ٹی سے وابستہ ہونے کے باوجود ان جدید ٹیکنالوجیز سے بے بہرہ ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ؛ عمران خان نے ظل شاہ قتل کیس میں عبوری ضمانت کیلئے درخواست دائر کردی
دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت گریڈ 12سے گریڈ 22کے تمام وفاقی و صوبائی ملازمین کے لیے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے متعلق ایک آگہی پروگرام شروع کرے گی۔ اس سے پبلک سیکٹر میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سیکھنے کے حوالے سے ایک تحریک شروع ہو گی۔ دستاویز کے مطابق حکومت اپنے اس منصوبے کے تحت 2027ءتک ملک میں پہلے سے موجود آئی ٹی پروفیشنلز میں سے 70فیصد کو اور 100فیصد نئے گریجوایٹس کو مصنوعی ذہانت اور الائیڈ ٹیکنالوجیز میں ماہر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔