گھوٹکی: کباڑ میں کتابوں کی فروخت کا معاملہ، اے آر وائی نیوز نے رپورٹ حاصل کر لی

گھوٹکی: سندھ کے شہر گھوٹکی میں کباڑ میں کتابوں کی فروخت کے معاملے میں اے آر وائی نیوز نے سندھ حکومت کی تحقیقاتی رپورٹ حاصل کر لی۔

تفصیلات کے مطابق گھوٹکی میں کتابیں فروخت ہونے کے معاملے پر سندھ حکومت کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی ہے، معلوم ہوا ہے کہ فروخت کی گئی کتابیں 2016 سے 2020 کے درمیان چھاپی گئی تھیں۔

سندھ حکومت کی تحقیقات نے محکمہ تعلیم کے افسران کو کلین چٹ دے دی ہے، انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ ٹیکسٹ بُک بورڈ کی کتابیں فروخت نہیں کی گئیں، بلکہ کباڑ میں فروخت کی گئی کتابیں نجی پبلشر کی ہیں۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق سیمی گورنمنٹ ادارے کتابیں چھپواتے ہیں، یہ کتابیں سرکار کی ملکیت نہیں ہیں، فروخت کرنے والا شخص بھی محکمہ تعلیم کا ملازم نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سندھ حکومت کی تحقیقات اور لوگوں سے تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ کتابوں کی فروخت میں محکمہ تعلیم کا عملہ ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے، نہ ہی ان کا تعلق کسی سرکاری ادارے سے تھا۔

واضح رہے کہ گھوٹکی میں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی 150 من کتابیں کباڑ میں فروخت ہونے کا انکشاف ہوا تھا، جس پر سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس صلاح الدین پہنور نے نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین اینٹی کرپشن کو تحقیقات کا حکم دے دیا تھا۔ اور ہدایت کی کہ ’ایمان دار‘ افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے۔

سندھ ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام کو 11 ویں اور 12 ویں کی کتابوں کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی، اور چیئرمین سندھ ٹیکسٹ بورڈ کو عدالت میں طلب کیا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *