یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے طلباء پر نئی پابندی لگ گئی

مستقبل کے ہیلتھ پروفیشنلز کی کردار سازی کے پیش نظر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں طلبہ کیلئے سٹوڈنٹ سوسائٹیز کا رکن بننا لازمی قرار دے دیا گیا۔ تمام طلبہ کیلئے ایک ہفتے تک کسی نہ کسی سٹوڈنٹ سوسائٹی یا کلب کا حصہ بننا ضروری ہوگا۔

مزید برآں ریسرچ رائیٹنگ، کمیونیکیشن سکلز پر ورکشاپس بھی ہر طالب علم کیلئے لازمی ہوں گی جنھیں کیے بغیر ڈگری مکمل نہیں ہوگی۔ ان باتوں کا اعلان وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر احسن وحید راٹھور نے طلبہ سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ سٹوڈنٹ کونسلنگ کے نظام کو یکم ستمبر سے مربوط کیا جائے گا۔

اس موقع پر وی سی نے طلبہ کے مسائلِ کے فوری حل کیلئے ” سہولت مرکز” بنانے کا اعلان کیا جہاں داخلے سے لیکر ڈگری تک تمام معاملات ون ونڈو آپریشن کے تحت حل ہوں گے۔ پروفیسر احسن وحید راٹھور نے کہاکہ یہ سہولت مرکز ستمبر تک فعال ہو جائے گا ۔

پروفیسر احسن وحید راٹھور نے کہاکہ بڑی بڑی باتوں کی بجائے وہ کروں گا جو میں کرسکتاہوں۔ سسٹم بنانے آیا ہوں، طلبہ کی کردار سازی کیلئے نظام بناؤں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہتا ہوں کہ کوئی ڈاکٹر یا نرس بیمار بچے کے سرہانے بیٹھی ماں کو رات تین بجے خون کا انتظام کرنے کا نہ کہے۔ اس موقع پر وائس چانسلر کی انتظامیہ کو سٹوڈنٹ میس اور ہاسٹل کے معاملات فوری طور پر بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.